آن پیج سرچ انجن آپٹیمائیزیشن

آن پیج سرچ انجن آپٹیمائیزیشن
آن پیج سرچ انجن آپٹیمائیزیشن آپ کی سائٹ کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔ اور بقول کچھ ایس ای او ایکسپرٹس اگر آپ اپنی ویب سائٹ کی آن پیج ایس ای او ہی اچھے طریقے سے کر لیں تو آپ کی سائٹ خود بخود رینک ہوجائے گی۔ لیکن اگر آپ اپنےحریف کے ساتھ مقابلہ بازی پر ہیں پھر آف پیج ایس ای او بھی ضروری ہے۔ آن پیج ایس ای او کے فائیور اور اپ ورک پر بہت زیادہ ٹاسک ملتے ہیں۔ اور یہ کام کرنا آسان بھی ہے۔ ورڈ پریس میں آپ یوسٹ یا آل ان ون ایس ای او پلگ انسٹال کریں اور اسکی سیٹنگ کرلیں۔ سیٹنگ سے مراد
آپ کو ان پلگ انس میں اپنی سائٹ کا ٹائٹل ، ڈسکرپٹسن (تفصیل) ، میٹا ٹیگز، روبوٹ ٹیکسٹ ، گوگل سرچ کنسول(گوگل ویب ماسٹر ٹول) ، گوگل اینا لے ٹک ، اور ایکس ایم ایل سائٹ میپ کی سیٹنگ کرنا ہوتی ہے۔
یہ پلگ انس آپ کی آن پیج ایس او کرنے میں بہت ہی زیادہ معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ کچھ ویب سائٹس بھی ہیں جو آپ کی سائٹ کی آن پیج ایس ای او کو چیک کرتے ہیں۔ اور جہاں جہاں ایس ای او کے لحاظ سے کوئی خامی ہو ۔ وہ بتاتے ہیں۔ جن کو فالو کرکے آپ اپنی سائٹ کی ایس ای او مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ان ویب سائٹس پر جو اچھی ویب سائٹس ہیں وہ یہ ہیں۔
https://www.woorank.com/
http://seositecheckup.com/
http://raventools.com/marketing-tools/seo-site-auditor/
http://neilpatel.com/seo-analyzer/
اب آتے ہیں آن پیج ایس ای او میں کون کون سے لوازمات آتے ہیں۔لیکن اس سے پہلے یاد رکھیں ۔ کہ آن پیج ایس ای او ہو یا آف پیج ایس ای او۔ہمارا مقصد ہمارے کی ورڈ کو رینک کرنا ہوتا ہے۔ کی ورڈ وہ مخصوص لفظ ہوتا ہے۔ جس کی بنیاد پر ہم چاھتے ہیں کہ لوگ اس کو گوگل میں سرچ کرکے ہماری سائٹ پر آئیں۔اسلئے ایس ای او میں ہمیں ہر لوازمات میں کی ورڈ کو ہی ترجیح دینا ہوتی ہے۔ اور کی ورڈ کی بنیاد پر ہی ہم نے تمام سیٹنگس کرنا ہوتی ہیں۔
ٹائٹل : ویب سائٹ کا ٹائٹل بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمار ی سائٹ کا ہوم پیج، اور ہر دوسرے پیج اور پوسٹ کا الگ الگ ٹائیٹل ہوتا ہے۔ ٹائیٹل میں ہمارا کی ورڈ ضرور شامل ہوتا ہے۔سرچ انجن میں بھی ہماری سائٹ کا ٹائیٹل شو ہوتا ہے۔ جس پر کلک کر کے وزیٹرز ہماری سائٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ ویب سائٹ کا ٹائیٹل ساٹھ حروف سے کم ہونا چاھئے۔ تاکہ سرچ ریزلٹ میں وہ مکمل ظاہر ہو۔
ڈسکریپشن۔اردو میں آپ اسے ویب سائٹ کی تفصیلات یا وضاحت کے معنی میں لے سکتے ہیں۔ ٹائیٹل کے بعد سرچ ریزلٹ میں ہماری سائٹ کی تفصیلات ہی سامنے آتی ہیں۔ سائٹ کی تفصیل جامع اور مختصر ہو اور اس میں آپ کا کی ورڈ ضرور شامل ہو، اور تقریبا 160 حروف کی تفصیل ہو۔ جو تقریبا 2 لائن پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن حالیہ گوگل سرچ اپ ڈیٹ میں اب آپ 200 حروف کی ڈسکریپشن بھی لکھ سکتے ہیں۔ جو سرچ انجن میں تین لائن میں بھی شو ہو رہی ہے۔
سایٹ ہیڈنگ:زیادہ تر ہم جب بھی کوئی آرٹیکل لکھتے ہیں تو اسکو مختلف پیراگراف یا سیکشن میں تقسیم کردیتے ہیں۔ اور قاری کی آسانی کے لئے ہم ہر پیراگراف یا سیکشن کوا یک ہیڈنگ دے دیتے ہیں۔ اور عام طور پر آرٹیکل ایڈیٹر میں ہم اسکے لئے ایچ ون ، ایچ ٹو کی آپشن استعمال کرتے ہیں۔ ہیڈنگ سے گوگل کو بھی آئیڈیا ہو جاتا ہے۔ کہ آرٹیکل میں یہ ہیڈنگ ضرور اہم ہیں ۔ اسلئے وہ سرچ ریزلٹ میں بھی اسکوضرور سامنے لاتا ہے۔
سائٹ کا لنک:ویب سائٹ کا لنک بھی رینکنگ میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اگر آپ کی کسی پوسٹ کا لنک سادہ اور اس میں آپ کا کی ورڈ شامل ہوگا ۔ تو وہ آپ کو بہتر ریزلٹ دے گا۔ اور اگر آپ کا لنک پیچیدہ ہوگا تو اس سے رینکنگ پر بھی فرق پڑے گا
بہترین ویب سائٹ پوسٹ لنک
site.com/beautiful-places-in pakistan
ویب سائٹ پوسٹ لنک پیچیدہ
site.com/365/738/subfolder/beautiful-places-in-pakistan
ایمج ایس ای او : آسان الفاظ میں ہم اسے تصویری ایس ای او کہہ سکتے ہیں۔ گوگل میں جہاں ہم ٹیکسٹ کی بنیاد ہر سرچنگ کرتے ہیں وہاں تصاویر سرچ کرنے کا بھی ایک بہت بڑا سیکشن ہے۔ جہاں کروڑوں کی تعداد میں روزانہ سرچنگ ہوتی ہے۔ تصویری ایس ای او کا بھی آپ کی ویب سائٹ کو رینک کرنے میں بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ سرچ انجن زیادہ تر تصویر کو اسکے ٹائیٹل اور آلٹ ایٹریبیوٹ کی مدد سے شو کرواتا ہے۔ اسلئے تصویر کا نام اسکی ڈسکریپشن ، اور اسکا آلٹ آیٹریبیوٹ ضرور لیکھیں۔ آلٹ ایٹریبیوٹ ،میں اگر تصویر لیٹ لوڈ ہو یا ریمو ہو گئی ہو تو تصویر کی جگہ ٹیکسٹ شو ہوتا ہے۔
Keyword Density
کی ورڈ ڈین سٹی: کی ورڈ ڈین سٹی یا دوسرے الفاظ میں کی ورڈ ز کی گنجائش کو کہہ سکتے ہیں۔ ایک آرٹیکل میں ہم اپنے کی ورڈز کو کئی بار لکھتے ہیں۔ تاکہ ہمارا آرٹیکل رینک ہوجائے۔ لیکن ہم حد سے زیادہ کی ورڈز اپنے آرٹیکل میں استعمال کریں گے ۔ تو گوگل انکل کو یہ طریقہ اچھا نہیں لگے گا۔ اور وہ آپ کی سائٹ کو سرچ انجن میں شو کروانے پر پابندی بھی لگا سکتا ہے۔ایک آرٹیکل میں کی ورڈز کی زیادہ سے زیادہ گنجائش پورے آرٹیکل کے مواد کا دو سے پانچ فیصد ہے۔ اس سے زیادہ ہم کی ورڈز استعمال نہیں کرسکتے۔
Keyword Consistency
کی ورڈ کن سیس ٹینسی : کی ورڈ کن سیس ٹینسی کا مطلب ان تمام جگہوں کا اچھی طرح سے فائدہ اٹھا یا جائے۔ کہ جہاں جہاں آپ اپنا کی ورڈ شامل کرسکتے ہیں۔جن میں ویب سائٹ کا ٹائٹل، پیج کے مواد، ٹائیٹل ، ڈسکریپشن، ہیڈنگز، تصویر کے آلٹ آیٹریبیوٹ، انکر ٹیکسٹ ، بیک لنکس اینکر ٹیکسٹ وغیرہ۔ یعنی کے آپ اپنا کی ورڈ ہر جگہ ٹھونس سکتے ہیں لیکن حد سے تجاوز نہیں کرنا ۔
انٹر لنکنگ: انٹرلنکنگ کا مطلب ایک ہی ویب سائٹ میں مختلف آرٹیکلز کو ایک دوسرے سے نتھی کرنا۔ اس سے دو فائدے ہوتے ہیں ۔ ایک تو آپ کے وزیٹرز کافی دیر تک آپ کی سائٹ پر رہتے ہیں۔ وہ ایک آرٹیکل سے دوسرے آرٹیکل کو پڑھتے ہیں۔ پھر دوسرے سے تیسرے آرٹیکل کو جب تک انکی بس نہ ہوجائے۔ دوسرا گوگل انکل کو بھی پتہ چلتا ہے ۔کہ آپ کی سائٹس پر اور بھی بہت سے پیجز ہیں جن کو سرچ انجن میں دیکھایا جا سکتا ہے۔ اسے علاوہ گوگل یہ بھی پسند کرتا ہے۔ کہ آپ کا چاھے اندرونی لنک ہو یا بیرونی لنک لیکن وہاں سے ملے جہاں کا مواد ، آپ کی ورڈ سے متعلقہ ہو ، یا آپ کی ویب سائٹ کی کیٹیگری سے تعلق رکھتا ہو۔ تو وہ فورا آپ کی سائٹ کو رینک کر دیتا ہے اسلئے ایک چالاک ایس ای او ایکسپرٹ اپنے آرٹیکلز میں انٹر لنکنگ ضرور استعمال کرتا ہے۔
کوالٹی کنٹینٹ: ایک زمانہ تھا۔ کہ ہمیں کسی بھی اپنی سائٹ کے لئے آرٹیکل کی ضرورت ہوتی تو ہم گوگل سرچ کرکے کسی بھی ویب سائٹ سے متعلقہ مواد کاپی کرلیتے۔ اور اسکا فائدہ یہ بھی ہوتا کہ گوگل یہ سمجھتا کہ شاید ہم نے اپنی ویب سائٹ میں نئی چیز شامل کی ہے۔ اور وہ ہماری سائٹ کو پہلے لے آتے۔ وقت کےساتھ ساتھ گوگل انکل ہوشیار ہوگئے اور انہیں یہ باتہ بات پسند نہیں آئی کہ کسی نے اتنی محنت سے کوئی آرٹیکل لکھا ہے۔ اور کوئی چوری بھی کرلے اور رینکنگ بھی حاصل کرلے ۔ اسلئے اس نے رول بنا دیا ۔ کہ اب جس نے بھی آرٹیکل کی چوری کی اس کی سائٹ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ (بین کردیا جائے گا) اور اسکی سائٹ کی رینکنگ ہی ختم ہوجائے گی۔
اسلئے اب گوگل کوالٹی کنٹینٹ کو ہی پسند کرتا ہے۔ ایسا کنٹینٹ ایسا آرٹیکل جس میں اوپر دئیے گئے تمام لوازمات ٹائیٹل ، ڈسکریپشن ، کی ورڈز، ہیڈنگز ، تصویری ایس ای او کا خیال رکھا جائے۔ ایسا کنٹینٹ جو ایس ای او فرینڈلی ہو۔ اگر آپ ورڈ پریس ویب سائٹ میں یوسٹ ایس ای او پلگ ان استعمال کرتے ہیں تو پوسٹ ایڈیٹر میں آپ کو آپ کے لکھے ہوئے آرٹیکل میں ایس ای او کےحوالے سے کئی گئی تمام غلطیوں کو پوائینٹ کرے گا اور آپ کو بتائے گا کہ آپ ان غلطیوں کو کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں۔
ویب سائٹ کی سپیڈ : گوگل اب ان ویب سائٹس کو زیادہ پسند کرتا ہے جو جلدی کھل جاتی ہیں۔ اور لوڈ ہونے میں زیادہ ٹائم نہیں لیتی۔ ورڈپریس میں اسکے بہت سے پلگ انز ہیں جس کی مدد سے آ پ اپنی ویب سائٹ کی سپیڈ بڑھا سکتے ہیں۔
موبائل ریس پونسیو: موجودہ دور چونکہ سمارٹ فون کا ہے۔ ہر بندہ ہی سمارٹ فون لے رہا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ایک خبر آئی تھی کہ ایک فقیر نے اپنے پیسوں سے مہنگا سمارٹ فون خریدا ہے۔ اور فیس بک استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ صرف کام کی حد تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلئے گوگل نے بھی کہہ دیا ہے۔ کہ اگر آپ کی ویب سائٹ موبائل ریسپونسیو نہیں ہے۔ مطلب کہ موبائل پرصحیح طرح سے شو نہیں ہوتی ۔ جو مرضی کرلو میں نے سائٹ رینک نہیں کرنی۔ موبائل ریسپونسیو نہ ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے۔ کہ موبائل یوزر تو بالکل ہی آپ کی سائٹ کو وزٹ نہیں کرےگا۔ اسلئے ہمیشہ اپنی سائٹ کے لئے موبائل ریسپونسیو تھیم ہی استعمال کریں۔
گوگل سرچ کنسول (گوگل ویب ماسٹر ٹول) :گوگل سرچ کنسول گوگل کی ایک ایپ ہے۔ جس میں بتایا جاتا ہے ۔ کہ سرچ انجن میں آپ کی سائٹ کیسی شو گی؟۔کیا آپ کی سائٹ کے تمام پیجز گوگل میں آرہے ہیں؟ آپ کی سائٹ میں کوئی خامی یا نقص نہیں ہے۔ کوئی لنک ٹوٹا ہوا تو نہیں ہے؟ کس چیز کو سرچ کرنے پر لوگ آپ کی سائٹ پر آرہے ہیں؟کیا آپ کی سائٹ ٹھیک طرح سے سرچ انجن کے لئے سیٹ ہوئی ہے؟
گوگل سرچ کنسول میں آپ اپنی جی میل آئی ڈی سے رجسٹر ہوسکتے ہیں ۔اور یوسٹ ایس ای او پلگ ان کی مدد سے اسے اپنی سائٹ سے جوڑ سکتے ہیں۔
گوگل اینا لے ٹک: گوگل اینا لیٹک بھی گوگل کی ایک ایپ ہے۔ جس میں زیادہ طرح آپ کی سائٹ کے وزیٹرز کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں۔کہ کتنے لوگ آن لائن ہیں۔ کتنوں نے آپ کی سائٹ کو وزٹ کیا ہے،۔ کہاں سے آئے ہیں۔ آپ کی ویب سائٹ پر کیا کر رہے ہیں۔ آپ کی سائٹ کا کونسا آرٹیکل پیج زیادہ مشہور ہو رہا ہے۔ وغیر ہ :اس سے بھی آپ اپنی جی میل آئی ڈی سے رجسٹر ہوسکتے ہیں ۔اور یوسٹ ایس ای او پلگ ان کی مدد سے اسے اپنی سائٹ سے جوڑ سکتے ہیں۔
ایکس ایم ایل سائٹ میپ:آپ کی ویب سائٹ کا ایسا نقشہ جس میں آپ کے تمام لنکس، پیجز ، اور پوسٹس کی تفصیلات ہوتی ہیں۔ اور یہ گوگل اور دوسرے سر چ انجن کو آپ کی سائٹ کے بارے میں تمام معلومات فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔یوسٹ پلگ ان کی مدد سے آپ اسے بھی گوگل سرچ کنسول میں شامل کر سکتے ہیں۔
روبوٹ ٹیکسٹ: روبوٹ ٹیکسٹ میں آپ سرچ انجن کو ایک باؤنڈری دیتے ہیں۔ کہ کونسے پیچز وہ دیکھ سکتے ہیں اور کونسے پیچز کو دیکھنے کی انہیں اجازت نہیں ہے۔ ویب سیکیورٹی کے حوالے سے بھی روبوٹ ٹیکسٹ بہت ضروری ہے

.

اپنا تبصرہ بھیجیں